ابنا: پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق نیویارک ٹائمز نے نام ظاہر کئے بغیربعض کمانڈروں کے بیانات کاحوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ اس منصوبے سے پاکستان میں خصوصی آپریشن میں تیزی آئے گي اورجنگ افغانستان میں ایک نیا محاذ کھل جائے گا۔ یہ رپورٹ افغانستان میں امریکہ کی نئی اسٹریٹیجی سامنے آنے کے چند دنوں بعد سامنے آئی ہے، جبکہ پاکستان میں فوجی آپریشن میں شدت لانے کے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لئے امریکی صدر کی منظوری بھی ضروری ہے۔دوسری طرف سے اس رپورٹ کی اشاعت کے ساتھ ہی امریکی وزارت جنگ اور نیٹو نے اس کی تردید کی ہے کہ وہ پاکستان میں زمینی فوجی کاروائيوں کا منصوبہ بناچکے ہیں۔ پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق نیٹو کے ترجمان گریگوری اسمتھ نے کہا کہ نیویارک ٹائمز کی اس رپورٹ میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔ ادھر امریکی وزارت جنگ کے ترجمان ڈیو لوپن DAVE LOPAN نے بھی اس خبرکی تردید کی ہے۔ یادرہے کہ نیویارک ٹائمز نے نام بتائے بغیر امریکی حکام کے حوالے سے لکھا تھا کہ امریکہ پاکستان میں زمینی فوجی کاروائياں کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس اخـبار کے مطابق افغانستان میں امریکی جرنیل افغانستان سے ملے پاکستانی سرحدی علاقوں میں زمینی فوجی کاروائياں کرنے کے خواہاں ہیں۔ اس رپورٹ کے مطابق اگر ایسا ہوتا ہے تو افغاں جنگ میں ایک اور محاذ کھل جائے گا۔ ادھر پنٹاگوں کے ترجمان نے کہا ہے کہ امریکی افواج قبائلی علاقوں میں عسکریت پسندوں کو کچلنے کے لئے پاکستانی فوج کے ساتھ تعاون کررہی ہیں۔ یادرہے امریکی وزیرجنگ نے حالیہ ہنگامی دورہ کابل میں اعتراف کیا تھا کہ نیٹو کو افغانستان میں نہایت کٹھن جنگ کا سامنا ہے۔ قابل ذکر ہے امریکہ نے پاکستان کے قبائلی علاقوں پر ڈرون حملے بھی تیز کر دیئے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110